Forest Department Jobs 2026 – Apply for Forest Guard, Seedling Inspector & Others
محکمہ جنگلات میں شاندار نوکریوں کا اعلان - 2026
حکومت پاکستان کے محکمہ جنگلات (Forest Department) کی جانب سے مختلف خالی آسامیوں کے لیے درخواستیں مطلوب ہیں۔ اگر آپ میٹرک یا پرائمری پاس ہیں اور سرکاری نوکری کی تلاش میں ہیں، تو یہ آپ کے لیے بہترین موقع ہے۔
خالی آسامیوں کی تفصیل (Job Positions):
اس اشتہار کے مطابق درج ذیل اسامیوں پر بھرتیاں کی جا رہی ہیں:
- سیڈلنگ انسپکٹر (Seedling Inspector)
- فارسٹ گارڈ / رینجر (Forest Guard)
- نرسری ورکر (Nursery Worker)
- مزدور / معاون (Helper / Labour)
اہلیت اور دیگر معلومات:
- تعلیمی قابلیت: پرائمری اور میٹرک۔
- کل آسامیاں: متعدد (Multiple Vacancies)۔
- محکمہ: محکمہ جنگلات (Govt Forest Department)۔
- آخری تاریخ: 26 اپریل 2026۔
درخواست دینے کا طریقہ (How to Apply):
خواہشمند امیدوار جو ان آسامیوں کے لیے مقررہ معیار پر پورا اترتے ہیں، وہ آخری تاریخ یعنی 26 اپریل 2026 سے پہلے اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔ مزید معلومات اور فارم کے لیے محکمے کی آفیشل ویب سائٹ یا قریبی دفتر سے رابطہ کریں۔
نوٹ: بروقت اپلائی کریں تاکہ کسی بھی قسم کی تاخیر سے بچا جا سکے۔
محکمہ جنگلات میں شاندار نوکریوں کا اعلان - 2026
حکومت پاکستان کے محکمہ جنگلات (Forest Department) کی جانب سے مختلف خالی آسامیوں کے لیے درخواستیں مطلوب ہیں۔ اگر آپ میٹرک یا پرائمری پاس ہیں اور سرکاری نوکری کی تلاش میں ہیں، تو یہ آپ کے لیے بہترین موقع ہے۔
خالی آسامیوں کی تفصیل (Job Positions):
اس اشتہار کے مطابق درج ذیل اسامیوں پر بھرتیاں کی جا رہی ہیں:
- سیڈلنگ انسپکٹر (Seedling Inspector)
- فارسٹ گارڈ / رینجر (Forest Guard)
- نرسری ورکر (Nursery Worker)
- مزدور / معاون (Helper / Labour)
اہلیت اور دیگر معلومات:
- تعلیمی قابلیت: پرائمری اور میٹرک۔
- کل آسامیاں: متعدد (Multiple Vacancies)۔
- محکمہ: محکمہ جنگلات (Govt Forest Department)۔
- آخری تاریخ: 26 اپریل 2026۔
درخواست دینے کا طریقہ (How to Apply):
خواہشمند امیدوار جو ان آسامیوں کے لیے مقررہ معیار پر پورا اترتے ہیں، وہ آخری تاریخ یعنی 26 اپریل 2026 سے پہلے اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔ مزید معلومات اور فارم کے لیے محکمے کی آفیشل ویب سائٹ یا قریبی دفتر سے رابطہ کریں۔
نوٹ: بروقت اپلائی کریں تاکہ کسی بھی قسم کی تاخیر سے بچا جا سکے۔

Comments
Post a Comment